کی نہایت ضرورت ہے اور تعلیم دینا اور سکھلانا براہین ثبوت اس دین متین کا اپنی اولاد اور عزیزوں کو ایسا فرض اور واجب ہوگیا ہے اور ایسا واضح الوجوب ہے کہ جس میں کسی قدر ایما کی بھی حاجت نہیں جس قدر ان دنوں میں لوگوں کے عقائد میں برہمی درہمی ہورہی ہے اور خیالات اکثر طبائع کے حالت خرابی اور ابتری میں پڑے ہوئے ہیں کسی پر پوشیدہ نہ ہوگا کیا کیا رائیں ہیں جو نکل رہی ہیں کیا کیا ہوائیں ہیں جو چل رہی ہیں۔ کیا کیا بخارات ہیں جو اٹھ رہے ہیں پس جن جن صاحبوں کو ان اندھیریوں سے جو بڑے بڑے درختوں کو جڑھ سے اُکھیڑتی جاتی ہیں کچھ خبر ہے وہ خوب سمجھتے ہوں گے جو تالیف اس کتاب کی بلا خاص ضرورت کے نہیں۔ ہر زمانہ کے باطل اعتقادات اور فاسد خیالات الگ رنگوں اور وضعوں میں ظہور پکڑتے ہیں اور خدا نے ان کے ابطال اور ازالہ کے لئے یہی علاج رکھا ہوا ہے جو اسی زمانہ میں ایسی تالیفات مہیا کردیتا ہے جو اُس کی پاک کلام سے روشنی پکڑ کر پوری پوری قوت سے ان خیالات کی مدافعت کے لئے کھڑی ہوجاتی ہیں اور معاندین کو اپنی لاجواب براہین سے ساکت اور ملزم کرتی ہیں پس ایسے انتظام سے پودہ اسلام کا ہمیشہ سرسبز اور تروتازہ اور شاداب رہتا ہے۔

اے معزز بزرگان اسلام! مجھے اس بات پر یقین کلی ہے کہ آپ سب صاحبان پہلے سے اپنے ذاتی تجربہ اور عام واقفیت سے ان خرابیوں موجودہ زمانہ پر کہ جن کا بیان کرنا ایک درد انگیز قصہ ہے بخوبی اطلاع رکھتے ہوں گے اور جو جو فساد طبائع میں واقعہ ہو رہے ہیں اور جس طرح پر لوگ بباعث اغوا اور اضلال وسوسہ اندازوں کے بگڑتے جاتے ہیں آپ پر پوشیدہ نہ ہوگا پس یہ سارے نتیجے اسی بات کے ہیں کہ اکثر لوگ دلائل حقیت اسلام سے بے خبر ہیں اور اگر کچھ پڑھے لکھے بھی ہیں تو ایسے مکاتب اور مدارس میں کہ جہاں علوم دینیہ بالکل سکھائے نہیں جاتے اور سارا عمدہ زمانہ ان کے فہم اور ادارک اور تفکر اور تدبر کا اور اور علوم اور فنون میں کھویا جاتا ہے اور کوچہ_¿ دین سے محض ناآشنا رہتے ہیں پس اگر